nimaz jummah

(نماز جمعہ کی فضلیت)


رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جس نے جمعہ کے دن خوب اچھی طرح غسل کیا جلد ی مسجد میں آیا اور امام کے قریب بیٹھا پھر غور سے خطبہ سنا اور کوئی لغوکام نہ کیا تو اس کے نامہ اعمال ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور را ت کے نفلوں کا ثواب اسے ملے گا (ابن ماجہ) ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ بنیﷺنے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آ نے والوں کے نام لکھتے ہیں سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتاہے اس کے بعد آنے والاگائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی اس کے بعد مرغی کا اس کے بعد انڈے کا لیکن جب امام خطبہ دینے کے لئے با ہر آجا تا ہے فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں حضرت دسلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جس قدر ممکن ہو پاکی حاصل کرے یا پھر تیل لگائے یا خوشبوملے اور مسجد میں اس طرح جائے کہ دوآدمیوں کو جدا کر کے ان کے درمیان نہ بیٹھے اور جس قدر اس کی قسمت میں تھا نماز پڑھے پھر جب امام خطبہ کیلیے نکلے تو خا موش رہے تو اس جمعہ سے لیکر دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دےئے جاتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: شب جمعہ اور جمعہ کے چوبیس گھنٹوں میں خدا وندعالم ہر گھنٹے میں چھ لاکھ آدمیوں کو جہنم سے آزاد کر تاہے (بحوالہ: مفاتیح )۔


(نماز جمعہ کی رکعات اور مسائل ) 


جمعہ کے دن ظہر کے وقت نماز ظہر کی بجائے نماز جمعہ پڑھتے ہیں جس کی چودہ رکعتیں ہیں پہلے چار سنتیں پھر دو فرض امام کے ساتھ پھر چار سنتیں پھر دو سنتیں پھر دو نفل مسئلہ :نماز جمعہ عورتوں پر فرض نہیں وہ اسکی جگہ نماز ظہر پڑھیں مسئلہ: نماز جمعہ کیلیے جماعت ضروری ہے بلا جماعت ادانہیں ہوتی اگر کسی کو امام کے ساتھ نماز جمعہ نہ ملے تو اس کی جگہ نماز ظہر پڑھے ۔

Back to top