umrah

(ایک نظر میں عمرہ )

 
احرام باندھنا: ( یہ عمرہ کی لازمی شرط ہے ) طواف کی نیت کرنا: حجر اسود کے سامنے کھڑے ہوکر طواف کعبۃاللہ :خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا ملتزم پر دعا کرنا :خانہ کعبہ کی چوکھٹ اور حجرا سو دوالے کو نے کے درمیان پانچ سے چھ فٹ جگہ ہے اسے التزم کہتے ہیں ۔ 


مقام ابراہیم پر دو رکعت نمازواجب الطو اف ادا کرنا 


اگر رش ہوتو مسجد الحرام میں جہاں جگہ ملے ادا کرلیں ۔آب زم زم پینا: حرم پاک میں جگہ جگہ آب زم زم کے کو لر رکھے ہو ئے ہیں ان میں سے زم زم نوش کریں ۔
سعی صفا ومروہ :( صفا، مروہ دو پہاڑیوں کے درمیان سات چکرلگانا) حلق یا قصر:حلق سے مرادسرمنڈ وانا اور قصر سے مراد پورے سر کے بال ایک انگلی کے پور برابر کٹوادیں حلق قصر سے افضل ہے البتہ عورت کے لئے سر منڈوانا حرام ہے وہ سر کے بال بقد رایک پورکے کٹوادے ( نوٹ): عمرہ میں دو فرض اور دوواجب ہو تے ہیں (پہلا ضرض) میقات یا میقا ت سے پہلے عمرہ کا احرام با ند ھنا اور عمرہ کی نیت کرکے تلبیہ پڑھنا ۔ (دوسرا فرض) مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرنا( پہلا واجب ) صفا ،مروہ کے درمیا ن سعی کرنا (دوسرا واجب ) حلق یا قصر یعنی سعی سے فارغ ہو کر سر کے بال منڈ وانا یا کٹو انا۔
عمرہ کرنے کے ضروری احکامات جو مر دیا عورت عمرہ کرنے کے لئے روانہ ہو اس کے راستہ میں جو میقات پڑتی ہو وہاں سے عمرہ کا احرام باند ھ لے خواہ کسی بھی سواری میں گزررہا ہو اگر اند یشہ ہو کہ سواری کو ڈرائیور میقا ت پر نہ روکے گا یا میقات کاپتہ نہ چلے تو میقات سے پہلے ہی احرام باندھ لے بہتر ہو گا کہ پاکستان کے کسی اےئر پورٹ حاجی کیمپ یا گھر سے احرام باندھ لے ۔احرام باندھنے کا طریقہ سب سے پہلے غسل کرے۔ (ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے ) اس کے بعد ایک چادر تہبند کی طرح باندھ لے اور دوسری چادر اوپر اوڑھ لے لیکن احرام کے نفل سر ڈھانپ کر پڑھے پھر نفل سے فارغ ہو کر سر ننگا کرے عمرہ کی نیت کرے اور پھر تین دفعہ بلند آواز سے تلبیہ پکارے ایک دفعہ تلبیہ پڑھنا فرض ہے عورت حسب معمول سلے ہوئے کپڑے پہنے اور سر کو چادر سے اسطر ح ڈھا نپ لے
کہ سر کے بال نظر نہ آئیں پھر دو رکعت احرام کے نفل پڑھ کر عمر ہ کی نیت کرکے مدھم آواز میں تلبیہ پڑھ لے۔ عمرہ کی نیت :دورکعت نفل ادا کرنے کے بعد یوں نیت کی جائے (ترجمہ )اے اللہ !میں عمرے کا ارادہ کرتا ہوں تو اس کو میرے لئے آسان فرمااو ر اسے مجھ سے قبول فرما) نیت کے بعد تلبیہ پکارے۔
تلبیہ: تلبیہ کے مسنون الفاظ یہ ہیں (ترجمہ ): میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہو ں۔ تیرا کو ئی شریک نہیں ۔میں حاضر ہوں ۔بیشک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لئے ہیں ۔تیرا کوئی شریک نہیں ۔(نوٹ ): اگر دو رکعت پڑ ھنے کا موقع نہ ملے یا وقت مکر وہ ہویا نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہو تو احرام کے دو نفل پڑھے بغیر ہی عمرہ کی نیت کرکے تلبیہ پکار لے احرام کیلئے دو رکعت نفل پڑھنا سنت ہے فرض یا واجب نہیں ۔
عمرہ کی ادائیگی کا طریقہ: مکہ مکرمہ پہنچ کر وضو وغیر ہ سے فارغ ہو کر مسجد الحرام کی طرف روانہ ہوجائے ۔مسجد الحرام میں داخل ہوتے وقت درود شریف پڑھ کر مسجد میں داخل ہونے کی دعاپڑھے ۔مسجد الحرام میں حالت وضو میں داخل ہونا چاہےئے۔ جب کعبہ شریف پر پہلی نگا ہ پڑے تو تین مرتبہ کہے ۔اور پھر درود شریف پڑھیں بیت اللہ شریف پر جب پہلی نگاہ پڑے اس وقت جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ اس کے بعد احرام کی چادر کا دایاں پلو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈا ل لے اور دایاں کندھا اور بازوننگا کرلے اس کو اضطباع کہا جاتاہے۔ مرد اضطباع کے ساتھ اور عورت بغیر اضطباع کے طواف شروع کر نے کیلئے کعبہ شریف کے اس کونے کے قریب آئے جس میں حجر اسودنصب ہے یہا ں اس طرح کھڑے ہوں ۔کہ چہرہ خانہ کعبہ کی طرف ہو حجر اسوددائیں طرف رہے اب
یہا ں آخر ی مرتبہ تلبیہ پڑھیں اور پھر طواف کی نیت کرے۔


( نیت طواف) 


(تر جمہ ):اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت والا ہے ۔اے اللہ !میں نیت کرتا ہوں /کرتی ہوں طواف کرنے کی تیرے مقدس گھر کا پس تو اس کوقبول فرمالے اور میر ے لئے آسان فرما دے ان سات چکر وں کو اللہ کی خوشنودی کے لئے اختیار کرتا ہوں ۔


(طریقہ طواف) 


نیت کے بعد کعبتہ اللہ کے استقبال کے لئے دائیں طرف ذرا چلے کہ حجر اسود بالکل سامنے آجائے اور حجر اسود کے سامنے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ سینے تک اٹھا ئے جیسے نماز کے لئے اٹھائے جاتے ہیں دو نوں ہتھیلیاں کعبتہ اللہ کی طرف رہیں پھر یہ پڑھے ۔(ترجمہ):اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اللہ سب سے بڑا ہے اور سب
تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ۔ یہ استقبال کعبتہ اللہ ہے اس کے بعد ہاتھ چھوٖڑدے پھر حجراسود پر آئے اور دونوں ہاتھ حجراسود پر رکھے پھر دونوں ہاتھوں کے درمیان بوسہ دے 
مردرمل اور اضطباع کے ساتھ اور عورت بلارمل ا ور اضطباع کے طواف اس طرح کرے کہ کعبہ شریف کے دروازے کی طرف بڑھے اور کعبہ شریف کو بائیں طرف کرکے چلنا شروع کر دے ۔آخر ی چار چکر وں میں رمل نہیں ہو گا۔ کعبہ شریف کے دروازے سے آگے بڑھ کر حطیم کو طواف میں شامل کرتے ہوئے کعبہ شریف کی پشت کی طرف سے گزر کر رکن یمانی پر پہنچے تو اس کو دونوں ہاتھ یا صرف دایاں ہاتھ لگائے بوسہ نہ دے پھر وہاں سے آگے بڑ ھ کر حجراسود پر آجائے حجراسود پرآکر پھر اسی
طریقہ پر استلام کر ے۔ جیسے طواف شروع کرتے وقت استلا م کیا تھا۔ طواف کا ایک چکر حجراسود سے شروع ہوکر کعبہ کے گرد گھوم کر واپس حجراسو د پر آکر مکمل ہوگا۔ اسی طرح سات چکر پورے کرے۔ ہر چکر کے اختتام پر استلام کرے اور استلام کے وقت ہر بار (بسم اللہْ اللہْ اکبرْ وللہ الحمدْ )کہے۔ جب سات چکرہو جائیں تو پھر استلام کرے اس طر ح آٹھ استلا م ہو جائیں گے طواف مکمل ہو جائے گا طو اف کے درمیان جو چاہے ذکر یا دعا کرتا رہے طواف کرتے ہوئے ہر چکر میں پڑھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے ۔طواف کے ہر چکر میں رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان یہ دعاپڑھنا سنت ہے ۔
طواف سے فارغ ہو کر دونوں کندھے ڈھانپ لیں اور ملتزم کی دعا پڑھیں پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت واجب الطواف پڑھیں مقام ابراہیم کے پیچھے جگہ نہ ہو تو مسجد الحرام میں جہاں جگہ ملے وہاں پڑھ لے دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں,, سورۃ الکافرون ،،آخر تک اور دوسری رکعت میں ,,سورۃ اخلاص،، آخر تک پڑھنا مسنون ہے ۔


(نیت سعی ) 


(ترجمہ ): اے اللہ میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر وں کی نیت کرتا ہوں خاص تیری خوشنودی اور ضاکے لئے پس اس کو میرے لیے آسان کر اور قبول فرمالے ۔


( طریقہ سعی )

اس کے بعد کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی بڑ ائی بیان کرکے اور دعا کی طرح ہاتھ اٹھا کریہ پڑھے ۔(تر جمہ ) اللہ تعالیٰ پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ۔اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ پھر صفا سے اترے اور مروہ کی طرف ذکر ودعائیں کرتا ہو ا چلے ۔یہا ں تک کہ سبز رنگ کی ٹیو ب لا ئٹ آجائیں تو دونوں کے درمیا ن تیز چلتا ہو اگز رجائے ۔درمیان تیز چلتے ہوئے یہ دعا پڑھنا افضل ہے 
( ترجمہ ) اے اللہ معاف فرما اور رحم فرما تو بڑھی عزت و کرم والاہے ۔ پھر دوسرے سبز ٹیو ب لائٹ پر پہنچ کر تیز چلنا موقو ف کردے اور اپنی عام رفتار پر چلے جب مر وہ پر پہنچ جائے تو وہاں بھی اسی طرح خانہ کعبہ کی طر ف منہ کر کے اللہ کی توحید و تکبیر بیان کرے ،تا ہم چو تھا کلمہ یا صرف پہلا کلمہ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔پھر درود شریف پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر جو چاہے دعا پڑھے، مروہ پر پہنچ کر ایک چکر ہو گیا، بعض لوگ صفا و مر و ہ کے درمیان چودہ مرتبہ آنے جانے کو مکمل سعی سمجھتے ہیں یہ ٖغلط ہے صرف سات مرتبہ ان دونوں کے درمیان گزر جانے سے سعی مکمل ہو جاتی ہے ۔,,حلق قصر سے افضل ہے ،، حضور ﷺ نے حلق کروانے والوں کی بخشش کیلئے تین مرتبہ اور قصر کروانے والوں کیلئے ایک مرتبہ دعا فرمائی ۔قصر بھی معبتر ہے جس میں پورے سر کے بال ایک پورکے بقد رکٹ جائیں۔ اگر بال اتنے چھوٹے ہوں کہ ایک پورکے بقد ر نہ کٹ سکتے ہوں۔ تو حلق کروانا ضروری ہے۔ حلق /قصر سے فارغ ہو نے کے بعد مسجد الحرام میں آکر دو رکعت شکر انے کے نفل ادا کرنا مستحب ہے۔ بشر طیکہ مکر وہ وقت نہ ہو ۔


(مسا ئل عمرہ )


عمرہ میں طواف قد وم ، طواف زیارت ،اور طواف وداع نہیں ہیں ۔عمرہ کا احرام باند ھ کر مسجد الحرام میں داخل ہو کر جو پہلا طواف کیا جائے گاوہ عمرہ کاطواف ہو گا جو کہ
فرض ہے *جو شخص مکہ مکرمہ یا حد ود حرم میں کسی بھی جگہ ہو اگر اس کو عمرہ کرنا ہو تو واجب ہے* زیادہ طواف کرنا زیادہ عمر ے کرنے سے افضل ہے ۔کیو نکہ مکہ مکرمہ کی سب سے بڑی عبادت طواف بیت اللہ شریف ہے ۔*صفا مروہ کے درمیا ن حج و عمرہ کی سعی کرنے کا ثواب ہے۔ اس کے علاوہ خالی سعی کرنے کا ثواب نہیں ملتا۔آدمی *جتنی بار عمرہ کر ے سر پر استر ہ پھر وائے چاہے سر پر با ل ہو ں یا نہ ہو ں اس طرح احرام سے نکل جائے گا ۔جو لوگ روزانہ عمرہ کریں وہ بھی ایسا کریں
* احرا م سے نکلنے کے لئے جو حلق کیا جاتا ہے اس میں سر پر بال ہو نے صروری نہیں ہیں۔ بعض لوگ ایک عمرہ کر کے چوتھائی سر منڈوا دیتے ہیں پھر اگلے عمرہ کے بعد چوتھائی سر مندوا دیتے ہیں ۔پھر تیسرا عمرہ پھر چوتھا ایسا کرنا غلط ہے۔ حدیث، شریف میں اس کی ممانعت آ ئی ہے۔* بہت سے لوگ حج یا عمرہ ہی کی خالص نیت سے آفا ق سے آتے ہیں اور میقات سے احرام نہیں باندھتے ۔ جدہ آکر احرام باندھتے ہیں ان پر دم داجب ہو جاتا ہے ۔


(مسائل طواف )

طواف کے لئے نیت اور وضو شرط ہے بغیر نیت کے کعبہ شریف کے گرد چکر لگانے سے طوا ف نہ ہو گا *جس طواف کے بعد سعی کرنا ہو اس میں رمل سنت ہے۔ *طواف باوضو کرنا ضروری ہے۔* طواف میں تیسرا کلمہ پڑھتے رہنا چا ہیے *حوائج ضرور یہ کو روک کر طواف کرنا مکر وہ ہے۔* طواف کرتے ہو ئے کعبہ شریف کی طرف دیکھنا منع ہے۔* طواف کے چکر وں کی تعد اد میں اگر شک پڑ جائے تو جہاں سے شک پڑ اہے وہا ں سے شروع کرے۔


(مسائل سعی )

سعی کے صحیح ہونے کی کچھ شرطیں ہیں یعنی ۔*خود سعی کرنا ،*پورا طواف یا اس کا اکثر حصہ یعنی چار چکر یا زیادہ ادا کرنے کے بعد سعی کا کرنا ۔*حج یا عمرہ کے احرام کا سعی پر مقدم ہونا ۔*سعی صفاسے شروع کرنا اور مروہ پر ختم کرنا ۔*سعی کا اکثر حصہ ( یعنی سات چکر وں میں سے چار چکر ) ادا کرنا شرط ہے ۔


(رکن سعی )

سعی کا معنی ہے صفا اور مروہ پر چکر لگانا ۔سعی کا صفا اور مروہ کے درمیان کرنا سعی کا رکن ہے ۔


(واجبا ت سعی )

*سعی کے سات چکر لگا نا۔* اگر کوئی عذرنہ ہو تو سعی میں پیدل چلنا ۔*عمرہ کی سعی کا احرام کی حالت میں ہونا ۔*صفا اور مرو ہ کے درمیان کا پورا فاصلہ طے کرنا۔* ترتیب یعنی صفا سے شروع کرنا اور مردہ پر ختم کرنا ۔
 

(سنن سعی ) 

سعی کی سنتیں یہ ہے ۔*سعی کے لئے جانے سے پہلے حجراسود کانواں استلام کرنا سنت موکدہ ہے۔* صفا اور مروہ تک آنا *صفا اور مروہ پر آنے کے بعد قبلہ روکھڑے ہونا ۔*سعی کی نیت کرنا ( اما م احمد کے نزدیک نیت شرط ہے۔* باقی تین آئمہ کے نزدیک سنت ہے ۔*سعی کے چکر وں کو پے در پے کرنا۔
* مردوں کیلئے ہر چکر میں سبز ٹیو ب لائٹس کے درمیان دوڑکر تیز چلنا عورتوں کیلئے یہ فاصلہ عام رفتار سے طے کرنا ۔

Back to top